ایک ٢٣ سال کا بلوچ نوجوان جو کہ زاھدان میں بس دھماکہ کے بعد گرفتارکئے گئے تھے خفیہ اداروں کی تشدد کے بعد آج اسکا لاش زاھدان کے قریب برآمد ھوا.
رپوٹر س۔س۔ رادیو بلوچی اف/ام زاھدان، آج منگل ١٣ جون او ایک جوان ٢٣ سال کا جوان وحید میر بلوچ زھی کے چند مہنیے گمشدگی کے بعد اسکی لاش برآمد ھوئی جو کہ پلاسٹک میں لپٹا اور ریتوں میںدھونس دی گئی تھی جو ایک راہگیر کی توسط سے پیدا کی گئي تھی اور اسکے نیم خشک بدن میں تشدد کے نشانات واضع طور پر نمایان ھیں۔
وحید میر بلوچ زھی اس صبح کو جب پاسداروں سے بھری بس دھماکہ سے اڑ گئی جو کہ دو گلی کے فاصلہ پر تھی اور اپنے گاڑی پر اس علاقہ گزر رھے تھے تو انھیں شک کی بناہ پر اسکو گرفتار کر کے اسکے لواحقین کو نے جب قانون نافزکرنے والے اداروں سے رجوع کی مگر انکی گرفتاری کی کوئی اطلاع نھیں دی گئي کیونکہ بس دھماکہ کے بعد خفیہ اداروں اور پاسداروں نے متعدد افراد کو گرفتار کیا اوروحید میر بلوچ زھی انہی گرفتار شدگان میں سے ایک تھے مگر آج ان کا لاش برآمد ھوئی۔
اطلاع کے مطابق وحید میر بلوچ زھی اپنے محلہ کے مسجد میں دینی نشریات میں دلچپسی رکتےتھے اور شیخ الاسلام ماننے والے اور سفروں میں ساتھ جاتے